اُڈپی:15؍ فروری (ایس اؤ نیوز )آنے والے ودھان سبھا انتخابات میں شری رام سینا لیڈر پرمود متالک ضلع اُڈپی کے کارکلا حلقہ سےانتخاب لڑنےکی تیاری کررہے ہیں، جس کے دوران بی جےپی حکومت کے کابینی وزیر سنیل کمار اور پرمود متالک کےدرمیان لفظی جھڑپیں تیز ہوتی جارہی ہیں۔
اپنے انتخابی اخراجات کے لئے پرمود متالک نے کچھ دنوں پہلے عوام سے مالی امداد کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے عوام سےکہاتھا کہ ووٹ کے ساتھ نوٹ بھی دیں۔ اس بیان پر پلٹ وار کرتےہوئے وزیر سنیل کمار نے کہا تھا کہ’’ کیا آپ مال جمع کرنے کارکلا آئے ہیں؟‘‘ اس کے بعد پرمود متالک نے جس طرح کڑ ا وار کیا ہے اس پر سنیل کمار پریشان نظر آرہے ہیں۔ پرمود متالک نےکہا کہ مال کے لئے مجھے بیلگام سے کارکلا آنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ اگر دھن ہی کمانا ہوتاتو مجھے 45برس نہیں لگتے ۔ اس پر ہی بس ن ہ کرتے ہوئے پرمود متالک نے دکھتی رگ پر انگلی رکھتے ہوئے کہاکہ سنیل کمار پہلے کہاں تھے ؟ اب کہاں ہیں ؟ وہ پہلے کیا تھے ؟ اب کیا ہوگئےہیں؟ اس کا احتساب کریں۔
پرمود متالک نے کہا کہ میں نےاپنے کارکنان کے کھانے پینے ، سفر وغیرہ کےلئے 100روپئے مانگے ہیں، کارکلا کے 40دیہاتوں تک پہنچنا میرے لئے ممکن نہیں ہے۔ مزید کہا کہ وہ یہاں ڈھونگی ہندوتوا، رشوت خوری کےخلاف جدوجہد کےلئے آئے ہیں اور اصلی ہندوتوا کیا ہوتا ہے، اُسے بتانے کےلئے یہاں کارکلا آیا ہوں۔